تخم بالنگا (دودھ ملنگا) صحت اور خوبصورتی کا ضامن۔ حیرت انگیز فوائد -->

Advertisement

تخم بالنگا (دودھ ملنگا) صحت اور خوبصورتی کا ضامن۔ حیرت انگیز فوائد

Hum Bharat
Friday 5 March 2021

 تخم بالنگا صحت اور خوبصورتی کا ضامن 




گرمیوں میں تخم بالنگا کا استعمال انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے ۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال جسم کی گرمی کو مارتا اور ٹھنڈک پیدا کرتا ہے یہ انسانی صحت کے لیے ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ تخم بالنگا میں اومیگا تھری بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، یعنی اس میں دیگر کی نسبت 60 فیصد سے زائد اومیگا 3 پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے تخم بالنگا کے پودے کا شمار ان پودوں میں کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ فیٹی ایسڈکی مقدار رکھتے ہیں۔ یہ ہائی کولیسٹرول سے محفوظ رکھتا ہے اور دماغ کو مضبوط بناتا ہے، تخم بالنگا کا استعمال ہر طرح سے مفید ہے۔


چہرہ خوبصورت بنائے

تخم بالنگا کے بیجوں میں ہر قسم کی سوزش اور خارش کو روکنے کی ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو جل میں نمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں ۔نہ صرف یہ بلکہ جلد پر ہونے والی سرخی کو کم کرکے دانوں کو پیدا ہونے سے روکتی ہے۔

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تخم بالنگا کا تیل جلد میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا ۔تخم ملنگا سے حاصل ہونے والا تیل ہر طرح سے اسکن کے لئے مفید ہے۔ سردیوں میں اکثر چہرے کے ساتھ ساتھ کہنیوں، ایڑیوں اور ہاتھوں کی جلد خشک ہونے لگتی ہے ۔ایسی صورت میں ان حصوں پر تخم بالنگا کا تیل لگانے سے بے حد فائدہ پہنچتا ہے۔ نہ صرف سردیوں میں عام موسم میں جسم کے کسی خشک حصہ پر یہ تیل لگایا جا سکتا ہے۔


تخم بالنگا میں ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو چہرے اور ہاتھوں پر بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو روکنے میں مدد دیتے ہیں، ”تخم بالنگا کے تیل میں اینٹی آکسیڈنٹ اور پولیٹو نیوٹرینٹ کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ اس میں ایلفا لیپوٹک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ جھریوں اور لائنوں کو بننے سے روکتا ہے۔


بالوں کیلئے مفید


پروٹین

پروٹین کی کمی بالوں کو بڑھنے سے روکتی ہے اور اسی کمی کی وجہ سے بال دو منہ بھی ہو جاتے ہیں، تخم بالنگا بنیادی طور پر پروٹین فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں جو بالوں کی نشوونما کے لئے اہم سمجھا جاتا ہے۔


تانبا

ہمارے جسم میں تانبے کی ضرورت سے کسی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا، تخم بالنگا میں موجود تانبا بالوں کی بڑی تیزی سے نشوونما کرتا ہے، ساتھ ساتھ میلا نن کو بھی بڑھاتا ہے جو بالوں کے قدرتی رنگ کو لمبے عرصے تک تبدیل ہونے سے روکتا ہے، یعنی بالوں کو وقت سے پہلے سفید نہیں ہونے دیتا۔


زنک

بالوں کے خلیے بنانے کے لئے زنک کا ہماری خوراک کا حصہ ہونا انتہائی ضروری ہے، اس لئے ایسے کھانوں کا استعمال رکھیں جن میں زنک کی وافر مقدار پائی جاتی ہو زنک نہ صرف بالوں کے سیل تیار کرتا ہے بلکہ اس سے بالوں میں قدرتی چمک دمک اور خوب صورتی برقرار رہتی ہے۔


آئرن

تخم بالنگا میں قدرتی طور پر آئرن موجود ہوتا ہے آئرن بالوں کو گھنا اور لمبا رکھنے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے آئرن بالوں اور بالوں کی جلد کو آکسیجن فراہم کرنے کا سبب بھی بنتا ہے، آئرن کی کمی کی وجہ سے بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں اور ان کا گھنا پن ختم ہوتا جاتا ہے اس لئے اپنی روزمرّہ کی زندگی میں تخم ملنگا کا استعمال اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ بالوں کو آئرن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔


جسمانی صحت کیلئے تخم ملنگا کے فوائد


تخم بالنگا فائبر، نیوٹرینٹ اور اینٹی آکسیدنٹ کا بہترین ذریعہ ہے، اسی لئے اسے اپنے روزمرّہ کے کھانوں میں استعمال کرنا ضروری ہے کیونکہ جلد اور بالوں سے ہٹ کر بھی تخم بالنگا انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی فائدے مند ہے، تخم بالنگا میں موجود فیٹی ایسڈ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو متوازن رکھتی ہے، جس سے آپ کا دل صحت مند و توانا رہتا ہے اور کئی بیماریوں جیسے دل کے جھٹکوں، دل کی دھڑکن کا تیز ہوجانا وغیرہ سے بچاتا ہے، روزانہ تخم بالنگا کا استعمال آپ کے جسم میں سیسٹول اور ڈائسٹول کے دباؤ کوکم کرتا ہے جو دل کی دھڑکن کو معتدل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ خون میں موجود انسولین کی مقدار کو کم رکھتے اور انہیں بڑھنے سے روکتے ہیں یعنی انسولین کی مقدار کو متوازن رکھتے ہیں۔

جسم میں موجود بلڈشوگر لیول کو توازن میں رکھنے سے نہ صرف ذیابیطس کا خطرہ کم رہتا ہے بلکہ اس سے انرجی بھی ملتی ہے، جو ہمارے روزمرّہ کے کام کاج میں مدد دیتی ہے ۔اس لئے دن بھر میں دو چمچہ تخم بالنگے انرجی حاصل کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔


سوزش میں کمی: تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جو افراد ہر روز تخم بالنگا کا استعمال کرتے ہیں انہیں کسی بھی قسم کے سوزش یا درد کی کم شکایت ہوتی ہے کیونکہ اس میں اومیگا 3 کے فیٹی ایسڈ جوڑوں کو مضبوط رکھتے ہیں اور سوزش سے دور رکھتے ہیں۔


وزن کم کرنے کے لئے

کھانوں میں تخم بالنگا کا استعمال انہیں طاقت ور بناتا ہے کیونکہ اس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اس لئے اس کے کھانے سے وزن نہیں بڑھتا، تخم بالنگا جسم میں موجود انسولین


کی تعداد کو توازن میں رکھتا ہے (یہ انسولین وزن بڑھانے اور پیٹ پر چربی جمانے کی وجہ بنتا ہے) اس لئے اگر موٹاپے کا شکار افراد روزانہ ایک مٹھی تخم ملنگا استعمال کریں توان کے وزن میں نمایاں کمی نظر آئے گی، اس کے علاوہ تخم بالنگا میں ٹریپٹو فین بھی پایا جاتا ہے جو ایک قسم کا امینو ایسڈبھی کہلاتا ہے یہ اجزائ  پرسکون نیند لانے کا سبب بنتے ہیں۔


پروٹین کی مقدار: تخم بالنگا کو اس حوالے سے دوسری تمام غذائی اجزائ  پر فوقیت حاصل ہے کہ اس میں دیگر کی نسبت پروٹین بے حد وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اس میں موجود پروٹین گندم اور چاول میں موجود پروٹین سے کئی زیادہ ہوتا ہے، اس میں ایک اہم جز اسٹرونٹیم پایا جاتا ہے جو پروٹین بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


ہڈیاں مضبوط

تخم بالنگا کا دن میں ایک بار استعمال آپ کی روزانہ کی جسمانی ضرورت کے مقابلہ میں 18 فیصد تک کیلشیم مہیا کرتا ہے، کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس میں ایک ایسا جز ہے جو کیلشیم کو ہڈیوں میں جذب کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔


صحت مند ہاضمہ: صحت مند ہاضمہ کے لئے بھی تخم بالنگا جادوئی اثر رکھتا ہے اس کا استعمال نظام ہاضمہ بہتر بناتا ہے کھانا جلد ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے، تخم بالنگا کے دو کھانے کے چمچ ہمارے جسم میں 10 گرام تک فائبر مہیا کرتے ہیں جو کہ ہماری روزمرّہ کی ضرورت کے حساب سے ایک تہائی کام کرتے ہیں اس کے علاوہ تخم بالنگوں کا روزانہ استعمال پیٹ کی تیزابیت کی صفائی کرتا ہے جس کی وجہ سے آپ پیٹ کے جملہ امراض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔


پٹھوں اور ٹشوز کی مضبوطی: اس کے لئے بھی تخم بالنگا کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے یہ ناکارہ ہوجانے والے ٹشو کو دوبارہ پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے اس میں موجود پروٹین اورامینو ایسڈ پٹھوں کے ماس کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔