وہ بھی کیا دن تھے ۔ یاد ماضی عذاب ہے یارب -->

Advertisement

وہ بھی کیا دن تھے ۔ یاد ماضی عذاب ہے یارب

Hum Bharat
Sunday 10 April 2022

 معصومیت بھرے پرانے دور میں الماریوں میں اخبارات بھی انگریزی کے بچھائے جاتے تھے کہ ان میں مقدس کتابوں کے حوالے نہیں ہوتے۔



چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر بھی کوئی نہ کوئی سنا سنایا خوف آڑے آجاتا تھا۔۔۔ زمین پر نمک یا مرچیں گر جاتی تھیں تو ہوش و حواس اڑ جاتے تھے کہ قیامت والے دن آنکھوں سے اُٹھانی پڑیں گی۔ گداگروں کو پورا محلہ جانتا تھا اور گھروں میں ان کے لیے خصوصی طور پر کھلے پیسے رکھے جاتے تھے۔ محلے کا ڈاکٹر ایک ہی سرنج سے ایک دن میں پچاس مریضوں کو ٹیکے لگاتا تھا، لیکن مجال ہے کسی کو کوئی انفیکشن ہو جائے۔ یرقان یا شدید سردرد کی صورت میں مولوی صاحب ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دم کردیا کرتے تھے اور بندے بھلے چنگے ہوجاتے تھے۔

گھروں میں خط آتے تھے اور جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ ڈاکئے سے خط پڑھواتے تھے ۔ ڈاکیا تو گویا گھر کا ایک فرد شمار ہوتا تھا ‘ خط لکھ بھی دیتا تھا‘ پڑھ بھی دیتا تھا اور لسی پانی پی کر سائیکل پر یہ جا وہ جا۔ امتحانات کا نتیجہ آنا ہوتا تھا تو ’نصر من اللہ وفتح قریب‘ پڑھ کر گھر سے نکلتے تھے اور خوشی خوشی پاس ہوکر آجاتے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب لوگ کسی کی بات سمجھ کر ’’اوکے‘‘ نہیں ’’ٹھیک ہے‘‘ کہا کرتے تھے۔

موت والے گھر میں سب محلے دار سچے دل سے روتے تھے اور خوشی والے گھرمیں حقیقی قہقہے لگاتے تھے۔ ہر ہمسایہ اپنے گھر سے سالن کی ایک پلیٹ ساتھ والوں کو بھیجتا تھا اور اُدھر سے بھی پلیٹ خالی نہیں آتی تھی۔

میٹھے کی تین ہی اقسام تھیں۔۔۔ حلوہ، زردہ چاول اور کھیر آئس کریم دُکانوں سے نہیں لکڑی کی بنی ریڑھیوں سے ملتی تھی، جو میوزک نہیں بجاتی تھیں۔

گلی گلی میں سائیکل کے مکینک موجود تھے جہاں کوئی نہ کوئی محلے دار قمیص کا کونا منہ میں دبائے ‘ پمپ سے سائیکل میں ہوا بھرتا نظر آتا تھا۔ نیاز بٹتی تھی تو سب سے پہلا حق بچوں کا ہوتا تھا۔

دودھ کے پیکٹ اور دُکانیں تو بہت بعد میں وجود میں آئیں‘ پہلے تو لوگ ’بہانے‘ سے دودھ لینے جاتے تھے۔

گفتگو ہی گفتگو تھی‘ باتیں ہی باتیں تھیں‘ وقت ہی وقت تھا۔

گلیوں میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہوتی تھیں‘ محلے کے بابے حُقہ پی رہے ہوتے تھے اور پرانے بزرگوں کے واقعات بیان کر رہے ہوتے تھے۔

جن گھر وں میں ٹی وی آچکا تھا انہوں نے اپنے دروازے محلے کے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے۔

مٹی کا لیپ کی ہوئی چھت کے نیچے چلتا ہوا پنکھا سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا تھا۔ اور فرج کے بغیر بھی مٹکے اور صراحیوں کا پانی ٹھنڈا رہتا تھا۔ 

لیکن۔۔

پھر اچانک سب کچھ بدل گیا ۔

ہم قدیم سے جدید ہوگئے۔

اب باورچی خانہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں ہوتا۔

کھانا بیٹھ کر نہیں پکایا جاتا۔  دستر خوان شائد ہی کوئی استعمال کرتا ہو۔

منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کے سفر میں ہم نے ہر چیز بہتر سے بہتر کرلی ہے، لیکن پتہ نہیں کیوں اِس قدر سہولتوں کے باوجود ہمیں گھر میں ایک ایسا ڈب

ضرور رکھنا پڑتا ہے، 

جس میں، 

ڈپریشن‘ سردرد‘ بلڈ پریشر‘ نیند اور وٹامنز کی گولیاں

ہر وقت موجود ہوں۔.